اپنی عظمت کا نگہبان نہیں ہے کوئی

Laiq Siddiqi

اپنی عظمت کا نگہبان نہیں ہے کوئی

کیا اب اس دور میں انسان نہیں ہے کوئی

جس طرف دیکھیے عشرت کی فراوانی ہے

ایسا لگتا ہے پریشان نہیں ہے کوئی

جو سمجھتا ہی نہ ہو حق و صداقت کیا ہے

آج کل اتنا بھی نادان نہیں ہے کوئی

اپنا ہر عیب نظر آتا ہے آئینے میں

دیکھ کر پھر بھی پشیمان نہیں ہے کوئی

پاؤں جب رکھئے زمیں پر تو رہے دھیان اس کا

خاک کے ذروں میں بے جان نہیں ہے کوئی

حوصلہ سانسوں سے ملتا ہے تو جی لیتا ہوں

زندگی پر مرا احسان نہیں ہے کوئی

سب کو معلوم ہے بدلی ہوئی صورت اپنی

آئنہ دیکھ کے حیران نہیں ہے کوئی

زندگی غم میں بسر کرنا ہے مشکل لیکن

مسکرا دینا بھی آسان نہیں ہے کوئی

کوئی کشتی نہیں محفوظ کنارے پہ لئیقؔ

جب سے دریاؤں میں ہیجان نہیں ہے کوئی