اہل دنیا نے سکھایا مجھے حیراں ہونا

Jagdish Sahay Saxena

اہل دنیا نے سکھایا مجھے حیراں ہونا

کیسے انساں ہیں کہ آتا نہیں انساں ہونا

کیا تری زلف سیہ تاب کو اے مایۂ ناز

غم الفت سے بھی آتا ہے پریشاں ہونا

غیرت مہر کہا ان کو تو ہنس کر بولے

کیسے منظور ہو اب شمع شبستاں ہونا

اور حسن غم ہستی کو بڑھا دیتا ہے

شوق گیسو میں ترے دل کا پریشاں ہونا

نہ بہاروں سے غرض ہے نہ خزاں سے مطلب

سیکھ لے مجھ سے کوئی خار بداماں ہونا

میری دانست میں توہین گنہ گاری ہے

اے گنہ گار گناہوں پہ پشیماں ہونا

قعر دریا میں بھی اک ساحل راحت ہے نہاں

بھول ہے موجۂ طوفاں سے ہراساں ہونا