واہ کیا دھوم سے عاشق کا جنازہ نکلا

Qamar Hilali

واہ کیا دھوم سے عاشق کا جنازہ نکلا

سب کو دھوکا ہوا سمجھے کہ یہ دولہا نکلا

غیر سمجھے تھے جسے اپنا شناسا نکلا

غور کرنے سے وہ مہمان ہمارا نکلا

یار و اغیار نے میت کو دیا تھا کاندھا

تیرے عاشق کا عجب شان سے لاشہ نکلا

یوں تو لاکھوں ہیں ترے چاہنے والے خواجہ

جاں نثاروں میں ترے میں ہی اکیلا نکلا

ساقیا مست ہوا آیا جو مجلس میں تری

اک ترا میں ہی نہیں والہ و شیدا نکلا

رخ انور سے ہٹا جب کہ نقاب گیسو

کوئی مضطر کوئی مجنوں کوئی کشتہ نکلا

ہوا گھائل تری نظروں کا پڑی جس پہ نظر

تری محفل سے قمرؔ بھی تو تڑپتا نکلا