غیر سے جم نہ سکا رنگ وفا میرے بعد
Nabiul Hasan Shamimغیر سے جم نہ سکا رنگ وفا میرے بعد
مٹ گیا شیوۂ تسلیم و رضا میرے بعد
اس ستم گر کے اٹھے دست دعا میرے بعد
بیکسی دیکھتی ہے شان خدا میرے بعد
اب تو وہ گرمیٔ بازار حسیناں بھی نہیں
کیسی تبدیل ہوئی آب و ہوا میرے بعد
شکر ہے مر کے میں آئین وفا سے چھوٹا
رہ سکے وہ بھی نہ پابند جفا میرے بعد
شمع خاموش رہی روح بھی دب کر نکلی
کوئی ہنگامۂ عالم نہ ہوا میرے بعد
حسن اور عشق کے چرچوں میں بھی کچھ لطف نہیں
مل گیا خاک میں دنیا کا مزا میرے بعد
جان دیتے ہوئے اس واسطے ڈرتا ہوں شمیمؔ
کھل نہ جائے کہیں انجام وفا میرے بعد