آئی ہے اس بت کافر پہ طبیعت اپنی

Qamar Hilali

آئی ہے اس بت کافر پہ طبیعت اپنی

بخت اپنے ہیں نصیب اپنے ہیں قسمت اپنی

اک زمانہ تھا کہ ہر روز چلے آتے تھے

اب تو مدت سے دکھاتے نہیں صورت اپنی

کس بھروسے پہ تو مغرور ہے منعم اتنا

جان اپنی ہے نہ دولت نہ حکومت اپنی

میں بلانوش ہوں ساقی مجھے دے بھر کے سبو

ایک ساغر سے نہیں بھرتی ہے نیت اپنی

وعدۂ وصل قیامت ہی کو پورا ہوگا

انتظار اس کا نہیں یہ ہے قیامت اپنی

عطر سے بڑھ کے معطر ہے یہ زلفوں کا خیال

جس کی خوشبو سے مہک جائیں گی تربت اپنی

ہم بھی بے مثل ہیں رکھتے نہیں دنیا میں مثال

کسی صورت سے نہیں ملتی ہے صورت اپنی

جب گزر گور غریباں پہ ہو تھم کر چلئے

حشر سے پہلے نہ ہو جائے قیامت اپنی

جب کہ تیرے ہی سوا مونس و غم خوار نہیں

پھر نہ کیوں عرض کریں تجھ ہی سے حالت اپنی

پیر کا ہے یہ تصدق کہ ہوں مشہور جہاں

عشق محبوب خدا سے ہوئی شہرت اپنی

مجھ سا تو بھی تو ہے اک بندۂ عاجز منعم

کیوں دکھاتا ہے ہمیں شوکت و حشمت اپنی

یوں ہی حسرت میں نکل جائیں گی کیا جان حزیں

یا الٰہی کبھی لڑ جائیں گی قسمت اپنی

آئنہ کو ہوئی حیرت مری خود بینی سے

ملتی جلتی کسی صورت سے ہے صورت اپنی

سر مرا بار گراں ہے تن بے جاں پہ مرے

تیغ قاتل سے نکل جائیں گی کلفت اپنی

مجھ کو بدنام کیا گریہ و زاری نے مری

آبرو ہی نہ رہی اور نہ ہے عزت اپنی

بعد مرنے کے بھی آئے گا نہیں چین مجھے

توڑ کر صاف نکل جاؤں گا تربت اپنی

دور سے کرتا ہوں زاہد تری چاہت کو سلام

تیری صحبت سے بگڑ جائیں گی عادت اپنی

بادہ خواری سے قمرؔ خلق میں بدنام ہوا

رونا آتا ہے مجھے دیکھ کے حالت اپنی