خود کو آفات زمانہ سے بچائے رکھئے
Ejaz Ajmeriخود کو آفات زمانہ سے بچائے رکھئے
وقت کیسا بھی ہو کردار بنائے رکھئے
مل ہی جائے گا کسی وقت سراغ منزل
راہ الفت میں نگاہوں کو بچائے رکھئے
کامیابی سے تو ہو جائے گا قصہ ہی تمام
عشق ناکام کو ناکام بنائے رکھئے
دیکھنے آئیں گے وہ ان کی خوشی کی خاطر
دل کے داغوں کو قرینے سے سجائے رکھئے
پھینک دیجے مرا دل ٹوٹ گیا پھوٹ گیا
ہو گیا خون اسے اس کے بجائے رکھئے
بزم اس کی ہے پرائے پہ نظر مت کیجے
رونق بزم بہر حال جمائے رکھئے
تحفۂ عشق ہے اعجازؔ وفا ہو کہ جفا
جو بھی مل جائے اسے دل سے لگائے رکھئے