اک نظر مڑ کے مجھے دیکھ اے جانے والے
Faisal Fehmiاک نظر مڑ کے مجھے دیکھ اے جانے والے
یہ جو لمحے ہیں کبھی پھر نہیں آنے والے
کتنی پاکیزہ جگہ ہے کہ جہاں پر لوگوں
اہل مقتل ہیں مری لاش جلانے والے
غم دوراں کے مصائب کا مداوا کیا ہے
عشق بس عشق بتاتے ہیں بتانے والے
یہی سب لوگ ہیں ان سب نے مرا قتل کیا
یہ مری قبر کو پھولوں سے سجانے والے
میں نے یہ بات بہت دیر سے جانی فہمیؔ
سارے وعدے نہیں ہوتے ہیں نبھانے والے