ڈھونڈ ہم ان کو پریشان بنے بیٹھے ہیں

Yasin Ali Khan Markaz

ڈھونڈ ہم ان کو پریشان بنے بیٹھے ہیں

وہ تو پردہ لئے انسان بنے بیٹھے ہیں

ذوق حاصل انہیں ہوتا ہے ہر یک صورت سے

رنگ و بے رنگی سے ہر آن بنے بیٹھے ہیں

چھوڑ مسجد کو گئے دیر میں پوجا کرنے

تھے مسلمان وہ رہبان بنے بیٹھے ہیں

بات یہ ہے کہ ہیولیٰ سے ہے صورت پیدا

ہر یک اجسام میں رحمان بنے بیٹھے ہیں

تازہ ہر آن دکھاتے ہیں وہ جلوہ اپنا

ہر تعین کے لئے شان بنے بیٹھے ہیں

ہیں مسیحا کہیں بیمار کہیں درد کہیں

ہر طرح سے وہی درمان بنے بیٹھے ہیں

وہی ہوتا ہے ہر یک کام جو وہ چاہتے ہیں

دیتے حسرت بھی ہیں ارمان بنے بیٹھے ہیں

کفر و اسلام کے پردے سے ہیں ہر حال میں خوش

واجب آئینہ سے امکان بنے بیٹھے ہیں

سچ تو یہ ہے کہ حقیقت جو ہے ان کی معلوم

جانتے جو ہیں وہ انجان بنے بیٹھے ہیں

جملہ ادوار و شیونات سے جلوہ کرتے

شان مرکزؔ میں وہ سبحان بنے بیٹھے ہیں