دھوپ رخصت ہوئی شام آئی ستارا چمکا

Rabab Rashidi

دھوپ رخصت ہوئی شام آئی ستارا چمکا

گرد جب بیٹھ گئی نام تمہارا چمکا

ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا تھا مجھے

تم نے جب مجھ کو پکارا تو کنارا چمکا

مسکراتی ہوئی آنکھوں سے ملا اذن سفر

شہر سے دور نہ جانے کا اشارا چمکا

ایک تحریر کہ جو صاف پڑھی بھی نہ گئی

مگر اک رنگ مرے رخ پہ دوبارا چمکا

آج اک خواب نے پھر ذہن میں انگڑائی لی

اور طوفان میں تنکے کا سہارا چمکا

سازگار آنے لگی تھی ہمیں خلوت لیکن

جی میں کیا آئی کہ پھر ذوق نظارا چمکا

جھلملانے لگیں محفل میں چراغوں کی لویں

رخصت اے ہم نفسو صبح کا تارا چمکا