بحث کرنے کی نہیں ہے مجھے عادت واعظ

منشی ٹھاکر پرساد طالب

بحث کرنے کی نہیں ہے مجھے عادت واعظ

مے و معشوق ہیں میرے لئے جنت واعظ

دختر رز ہی مری راحت جاں روح حیات

اس سے ممکن نہیں ہو ترک محبت واعظ

بزم رنداں میں ترا وعظ ہے اک فعل عبث

کس کو فرصت جو کرے تیری سماعت واعظ

آپ جس عشق بتاں کو ہیں گنہ بتلاتے

وہی زینہ ہے پئے بام حقیقت واعظ

اس کو رغبت تجھے نفرت ہے مے ایسی شے ہے

بخت طالبؔ وہ ہے یہ ہے تیری قسمت واعظ