بے خبر کیسے کوئی راز نہاں تک پہنچے

Ejaz Ajmeri

بے خبر کیسے کوئی راز نہاں تک پہنچے

بات دل سے کہیں نکلے تو زباں تک پہنچے

صاحبان خرد و ہوش بھٹکتے ہی پھرے

اور دیوانوں کا جی چاہا جہاں تک پہنچے

تیرے دیوانوں کی منزل کوئی منزل ہی نہیں

کیا خبر ان کو کہاں آئے کہاں تک پہنچے

ان مظالم کا یہ انجام نئی بات نہیں

سینکڑوں بار قیامت کے نشاں تک پہنچے

راہبر کوئی نہ تھا اور نشانات نہ تھے

دل خضر بن کے چلا ہے تو وہاں تک پہنچے

خاک ہی خاک نظر آیا ہمیں اپنا وجود

بھیس بدلے ہوئے گو بزم جہاں تک پہنچے

تیری اعجاز بیانی کے یہ چرچے اعجازؔ

اب تو ہر بزم میں ہر اہل زباں تک پہنچے