Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہوہم نہ کہتے تھے کہ ہاں رنجش بے جا کیوں ہوPirzada Qasim
- روح گر نوحہ کناں ہو تو غزل ہوتی ہےدل کو احساس زیاں ہو تو غزل ہوتی ہےPirzada Qasim
- گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیںکاش ہم اپنی ہی خواہش کو میسر آ جائیںPirzada Qasim
- آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونایاد کر اے دل خاموش وہ اپنا روناAhmad Mushtaq
- اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھاپھر قدم ہم نے تری راہ گزر پر رکھاAhmad Mushtaq
- بھاگنے کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتےکوئی در کوئی دریچہ نہیں رہنے دیتےAhmad Mushtaq
- تھم گیا درد اجالا ہوا تنہائی میںبرق چمکی ہے کہیں رات کی گہرائی میںAhmad Mushtaq
- چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیادل مشتاق ٹھہر جا وہی منظر آیاAhmad Mushtaq
- چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلےمجھ سے اچھے تو شب غم کے مقدر نکلےAhmad Mushtaq
- چھٹ گیا ابر شفق کھل گئی تارے نکلےبند کمروں سے ترے درد کے مارے نکلےAhmad Mushtaq
- چھن گئی تیری تمنا بھی تمنائی سےدل بہلتے ہیں کہیں حوصلہ افزائی سےAhmad Mushtaq
- خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونایہ الگ بات کہ ممکن نہیں ایسا ہوناAhmad Mushtaq
- دل میں وہ شور نہ آنکھوں میں وہ نم رہتا ہےاب تپ ہجر توقع سے بھی کم رہتا ہےAhmad Mushtaq
- زلف دیکھی وہ دھواں دھار وہ چہرا دیکھاسچ بتا دیکھنے والے اسے کیسا دیکھاAhmad Mushtaq
- شام ہوتی ہے تو یاد آتی ہے ساری باتیںوہ دوپہروں کی خموشی وہ ہماری باتیںAhmad Mushtaq
- کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میںابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میںAhmad Mushtaq
- مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہےوہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہےAhmad Mushtaq
- تو ہے کعبہ میں تو پھر دل میں گزر کس کا ہےلا مکاں تیرا اگر ہے تو یہ گھر کس کا ہےجمیلہ خدا بخش
- دیکھیے گل کی محبت ہمیں کیا دیتی ہےبلبل زار یہ حسرت سے صدا دیتی ہےجمیلہ خدا بخش
- شعلۂ آہ نے سیکھا ہے جلانا دل کانہیں ملتا ہے جو پہلو میں ٹھکانا دل کاجمیلہ خدا بخش
- فصل گل دیکھ کے افزوں ہوئی وحشت اپنیلے چلے دیکھیے کس جا مجھے قسمت اپنیجمیلہ خدا بخش
- کر دیا زلف پریشاں سا پریشاں مجھ کودشت میں چھوڑ گیا ہے دل ناداں مجھ کوجمیلہ خدا بخش
- شب کو نالہ جو مرا تا بہ فلک جاتا ہےصبح کو مہر کے پردے میں چمک جاتا ہےHabeeb Moosavi
- اصل ثابت ہے وہی شرع کا اک پردہ ہےدانے تسبیح کے سب پھرتے ہیں زناروں پرHabeeb Moosavi
- کسی صورت سے ہوئی کم نہ ہماری تشویشجب بڑھی دل سے تو آفاق میں پھیلی تشویشHabeeb Moosavi
- حدت و حبس پہ تنقید نہیں کر سکتےکیوں ہم ایسا مرے خورشید نہیں کر سکتےBadr Muneer
- دیکھ لیتے ہو محبت سے یہی کافی ہےدل دھڑکتا ہے سہولت سے یہی کافی ہےBadr Muneer
- عین ممکن ہے یہ زحمت بھی اٹھانی پڑ جائےباتوں باتوں میں کوئی بات چھپانی پڑ جائےBadr Muneer
- کنج حیرت سے چلے دشت زیاں تک لائےکون لا سکتا ہے ہم دل کو جہاں تک لائےBadr Muneer
- کون دے گا ترے کوچے میں صدا میرے بعدسر کو پٹخے گی ترے در پہ ہوا میرے بعدBadr Muneer
- کیا خبر کون سا رستہ تری جانب نکلےبے ارادہ بھی کئی بار سفر کرتے ہیںBadr Muneer
- جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہورات دن کون سے دل دار کے گن گاتے ہوAitbar Sajid
- چھوٹے چھوٹے سے مفادات لیے پھرتے ہیںدر بدر خود کو جو دن رات لیے پھرتے ہیںAitbar Sajid
- ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میریخود میں گم رہنا تو عادت ہے پرانی میریAitbar Sajid
- گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جاناتم کسی چشم خریدار میں مت آ جاناAitbar Sajid
- اولیں شہر کی تسخیر میں پہلو تھے بہترنج کے خوف کے حیرت کے شکیبائی کےAitbar Sajid
- جب بھی ہنستے ہوئے انکار کیا ہے اس نےدل پہ اک اور نیا وار کیا ہے اس نےFaheem Jogapuri
- دیر کے ساتھ حرم آئے شوالے آئےآج چھن چھن کے اندھیروں سے اجالے آئےFaheem Jogapuri
- ذہن جب تیرے تصور میں رواں ہوتا ہےتو بھی بولے تو سماعت پہ گراں ہوتا ہےFaheem Jogapuri
- رات کا اب کوئی جادو نہیں چلنے والااک ستارا ہے اسے دن میں بدلنے والاFaheem Jogapuri
- شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہےلوٹ آئے ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہےFaheem Jogapuri
- غم بھی صدیوں سے ہیں اور دیدۂ تر صدیوں سےخانہ بربادوں کے آباد ہیں گھر صدیوں سےFaheem Jogapuri
- یاد کر کر کے تری یاد مٹانے نکلےلے کے گھی ہاتھ میں ہم آگ بجھانے نکلےFaheem Jogapuri
- یہ فقیری ہے قناعت کے سوا کیا جانےکون کیا دے کے گیا دست دعا کیا جانےFaheem Jogapuri
- اس توقع پہ کہ دیکھوں کبھی آتے جاتےگھس گئے پاؤں رہ دوست میں جاتے جاتےسید یوسف علی خاں ناظم
- دل میں اتری ہے نگہ رہ گئیں باہر پلکیںکیا خدنگ نگہ یار کی ہیں پر پلکیںسید یوسف علی خاں ناظم
- کبھی خوں ہوتی ہوئے اور کبھی جلتے دیکھادل کو ہر بار نیا رنگ بدلتے دیکھاسید یوسف علی خاں ناظم
- واں جو کچھ کعبے میں اسرار ہے اللہ اللہسو مرے بت میں نمودار ہے اللہ اللہWaliullah Muhib
- اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتےدم مرا سینے میں رکنے لگا آتے جاتےمرزا آسمان جاہ انجم
- عرش و کرسی کی خبر لائے ہیں لانے والےایک موسیٰ ہی نہ تھے طور کے جانے والےمرزا آسمان جاہ انجم