حدت و حبس پہ تنقید نہیں کر سکتے
Badr Muneerحدت و حبس پہ تنقید نہیں کر سکتے
کیوں ہم ایسا مرے خورشید نہیں کر سکتے
کرنی پڑ جائے وضاحت پہ وضاحت لیکن
ہم تری بات کی تردید نہیں کر سکتے
جب ترا سامنا ہوتا ہے تو اے سحر جمال
عرض کر سکتے ہیں تاکید نہیں کر سکتے
مثل اوراق پریشاں ہے کتاب ہستی
جو محبت کی حقیقت سے کریں صرف نظر
وہ کبھی عہد کی تجدید نہیں کر سکتے
زہر پینا تو بڑی دور کا قصہ ہے منیرؔ
لوگ سچائی کی تائید نہیں کر سکتے