دیکھ لیتے ہو محبت سے یہی کافی ہے

Badr Muneer

دیکھ لیتے ہو محبت سے یہی کافی ہے

دل دھڑکتا ہے سہولت سے یہی کافی ہے

مدتوں سے نہیں دیکھا ترا جلوہ لیکن

یاد آ جاتے ہو شدت سے یہی کافی ہے

جو بھی رستے میں گزرتا ہے مرے پہلو سے

دیکھتا ہے تری نسبت سے یہی کافی ہے

میرے آنگن میں اترتا نہیں وہ چاند کبھی

دیکھ لیتے ہیں اسے چھت سے یہی کافی ہے

ساری دنیا سے الجھتے ہیں مگر تیرا کہا

مان لیتے ہیں شرافت سے یہی کافی ہے

حال دنیا کے ستائے ہوئے کچھ لوگوں کا

پوچھ لیتے ہو شرارت سے یہی کافی ہے

کیا ہوا ہم کو میسر جو زر و مال نہیں

کٹ رہی ہے بڑی عزت سے یہی کافی ہے

آج کے عہد تغافل میں کسی در پہ منیرؔ

کوئی آ جائے ضرورت سے یہی کافی ہے