عین ممکن ہے یہ زحمت بھی اٹھانی پڑ جائے
Badr Muneerعین ممکن ہے یہ زحمت بھی اٹھانی پڑ جائے
باتوں باتوں میں کوئی بات چھپانی پڑ جائے
سوچ کر اور کوئی عذر بھی رکھیں شاید
روبرو اس کے یہ توجیہہ پرانی پڑ جائے
در بدر پھرتے ہیں اس آس پہ ہم دل زدگاں
کسی رستے میں کوئی شام سہانی پڑ جائے
مصلحت اوڑھنے والوں کو یہ معلوم نہیں
اپنے رستے کی یہ دیوار جو ڈھانی پڑ جائے
دیکھتے ہیں جسے آئینۂ دل میں اکثر
وہی تصویر جو دنیا کو دکھانی پڑ جائے
شہر کے طرز تغافل سے تو بہتر ہے منیرؔ
اپنے حصے میں کوئی نقل مکانی پڑ جائے