Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf
خفیف مسدس مخبون محذوف- بے سبب عشق کب اداس رہاوہ تمہارا ادا شناس رہاEhsas Muradabadi
- ہاں کبھی ہے کبھی ہے یار نہیںہاں نہیں کا کچھ اعتبار نہیںمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- آنکھوں آنکھوں میں بات ہونے لگیخالی نیندوں سے رات ہونے لگیYasmin Husaini Zaidi Nikhat
- میری آواز کو نہ قید کروعزم پرواز کو نہ قید کروYasmin Husaini Zaidi Nikhat
- دل اگر درد آشنا نہ ہوااس کا ہونا ہی کیا ہوا نہ ہواZabt Sitapuri
- کاش مقبول ہو دعائے عدوکیا کروں وہ بھی مستجاب نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- جب ہوا وعدہ اور وفا نہ ہواپھر برابر ہے وہ ہوا نہ ہوامحمود رامپوری
- ان کی باتوں کو کچھ قیام نہیںصبح کہتے ہیں ہاں تو شام نہیںنشتر چھپروی
- وقت بس رینگتا ہے عمر کے ساتھتارہ تارہ گنا ہے عمر کے ساتھYasmeen Habeeb
- زندگی نام ہے تغیر کاگر تغیر نہ ہو تو زیست محالFaiz Tabassum Tonsvi
- ہوشؔ اس پر کسی کا بس نہ چلاوقت جب آ گیا تو پھر نہ ٹلاہوش بلگرامی
- بالیقیں پیکر شباب ہے وہجس کی نظروں کا انتخاب ہے وہJagdeesh Raj Figar
- مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہاپہلے جو اضطراب تھا نہ رہاLaiq Aajiz
- دوست کوئی جو معتبر نہ رہااعتبار اپنے آپ پر نہ رہاNadim Balkhi
- ضبط کر آہ بار بار نہ کرغم الفت کو شرمسار نہ کرQadr Oraizi
- وہ بظاہر کبھی عیاں نہ ہواپھر بھی مشتاق سے نہاں نہ ہواQadr Oraizi
- مجھ پر ان کا عتاب ہو ہی گیاجان پر اک عذاب ہو ہی گیارنج حیدرآبادی
- دل میں چمکے ہوئے ہیں داغ بہتروشن اس گھر میں ہیں چراغ بہترنج حیدرآبادی
- غم چھپاؤں کہ آشکار کروںکون سی وضع اختیار کروںZabt Ansari
- ہر دعا ہوگی بے اثر نہ سمجھآج ناحق ہے آنکھ تر نہ سمجھAanand Saroop Anjum
- دل لیے اور دکھا دکھا کے لیےکی جفا اور مزے جفا کے لیےبیتاب عظیم آبادی
- باغ میں آمد بہار ہے آجچشم نرگس کو انتظار ہے آجمیر مظفر حسین ضمیر
- شہر کی رسم ہے پرانی وہیسازشیں تازہ ہیں کہانی وہیQaisar Abbas
- آہ و نالہ نے کچھ اثر نہ کیاہجر کی شام کو سحر نہ کیاRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- اس کو خلوت کا میری پاس نہیںکیسے کہہ دوں کہ جی اداس نہیںSaa’in Alig
- ہوش تھا یا کوئی خمار رہادل کہ بیتاب و بے قرار رہاSaa’in Alig
- بے زباں بھی تھا با زبان بھی تھاکچھ خموشی تھی کچھ بیان بھی تھاParmod Lal Yakta
- راہ ضد کی نہ اختیار کروسچی باتوں پہ اعتبار کروRafeeq Anjum
- کون دنیا سے بادہ خوار اٹھاچشم تر ابر نو بہار اٹھاشیخ علی بخش بیمار
- لڑ ہی جائے کسی نگار سے آنکھکاش ٹھہرے کہیں قرار سے آنکھبشیر الدین احمد دہلوی
- دوستوں سے کوئی گلہ ہی نہیںاب مرے پاس کچھ بچا ہی نہیںDeedar Bastawi
- غنچہ و گل کی جستجو نہ رہیدل میں اب کوئی آرزو نہ رہیEhsan Akhtar Ghazipuri
- ہم نے بوڑھوں سے یہ سنی ہے میاںبات وہ ہے جو ان کہی ہے میاںFaheem Amrohvi
- اپنا رستہ بدل کے دیکھ تو لوتم مرے ساتھ چل کے دیکھ تو لوIbrahim Faiz
- کب ہوئی ختم رات یاد نہیںکیا ہوئی ان سے بات یاد نہیںIbrahim Faiz
- عید ملنے کا اک بہانہ ہواکاٹ کر جیب وہ روانہ ہوامجید لاہوری
- خود سوال و جواب کرتے رہواپنے دل سے حساب کرتے رہوUrmila Madhav
- جانے کیا درمیان ٹوٹ گیاچھت تو ہے پر مکان ٹوٹ گیاKalicharan Singh
- دیکھیے اب نہ یاد آئیے آپآج کل آپ سے خفا ہوں میںUmmaturrauf Nasreen
- سامنے سے جو وہ نگار گیادل پہ تیر نگاہ مار گیامیر شیر علی افسوس
- تیری تصویر میرے پاس نہیںاور کبھی ہونے کی بھی آس نہیںVikas Naseeb
- جاں رہے نوچتے حیات کے دکھذات کے اور کائنات کے دکھZafar Rabab
- خوش نظر ہے نہ خوش خیال ہے یہآج کے دیدہ ور کا حال ہے یہHabab Tirmizi
- اب وہ پہلا سا سلسلہ بھی نہیںآنکھ میں کوئی رت جگا بھی نہیںTabassum Siddiqui
- تختیاں سب اتار دی گئی ہیںمرے گھر کا کہیں پتہ ہی نہیںTabinda Sahar Abidi
- وقت کی دل لگی عروج پہ تھیرات بھر شاعری عروج پہ تھیTabinda Sahar Abidi
- عالم اس بت پہ مبتلا ہی رہاان میں فدوی بھی اک فدا ہی رہاLala Tika Ram
- آج کل آپ ساتھ چلتے نہیںاس لئے لوگ ہم سے جلتے نہیںMadan pal
- تم خفا ہو کے ہم کو چھوڑ چلےاب اجل سے ہے سامنا اپناMah Lakhnavi
- زیست کیا ہے حماقتوں کے سواچند ظالم صداقتوں کے سواRabia Fakhri