خوش نظر ہے نہ خوش خیال ہے یہ
Habab Tirmiziخوش نظر ہے نہ خوش خیال ہے یہ
آج کے دیدہ ور کا حال ہے یہ
تم مرے دل میں کیوں نہیں آتے
شہر رعنائی جمال ہے یہ
میرے چہرے پہ کچھ نہیں تحریر
صرف عنوان عرض حال ہے یہ
وجہ ناکامئ وفا کیا ہے
آپ سے آخری سوال ہے یہ
چاہتے بھی ہیں چاہتے بھی نہیں
دوستی کی نئی مثال ہے یہ
کیسے سلجھیں گے کاکل دوراں
کتنا الجھا ہوا سوال ہے یہ
کون جانے عروج کیا ہوگا
آدمی کا اگر زوال ہے یہ
ڈھونڈھتا ہے نئی نئی افتاد
دل ایذا طلب کا حال ہے یہ
اس زمانے میں پاک دامانی
امر ممکن نہیں محال ہے یہ
اب کوئی آنکھ نم نہیں ہوتی
دل کی دنیا میں خشک سال ہے یہ