ہر دعا ہوگی بے اثر نہ سمجھ

Aanand Saroop Anjum

ہر دعا ہوگی بے اثر نہ سمجھ

آج ناحق ہے آنکھ تر نہ سمجھ

زیست مشکل سہی مگر اے دوست

موت آسان رہ گزر نہ سمجھ

حوصلہ رکھ تو رہرو منزل

تھک کے رستے کو اپنا گھر نہ سمجھ

پوجتا ہوں میں پتھروں کے صنم

میرے دل میں ہے کوئی ڈر نہ سمجھ

جا بہ جا سن تو میری سرگوشی

میں فضا میں ہوں منتشر نہ سمجھ

جن چراغوں کی لو بہت کم ہے

ان چراغوں کو معتبر نہ سمجھ

میں تہی دست مفلس و نادار

تو مجھے دست بے ہنر نہ سمجھ

میں ہوں قائل تری پرستش کا

تجھ سے مانگوں گا میں گہر نہ سمجھ

تیری دستک کا منتظر انجمؔ

شہر میں ہوگا کوئی در نہ سمجھ