ہاں کبھی ہے کبھی ہے یار نہیں
منشی ٹھاکر پرساد طالبہاں کبھی ہے کبھی ہے یار نہیں
ہاں نہیں کا کچھ اعتبار نہیں
سر میں سودا عبث ہے دنیا کا
گھر کچھ ایسا یہ پائیدار نہیں
قاتل ابرو سے تیرے ڈرتے ہیں
ورنہ تیغ ایسی آبدار نہیں
سنگ طفلاں سے اس لئے ڈر ہے
سر شوریدہ پائیدار نہیں
چلے جاتے ہیں رہروان عدم
ساتھ والوں کا اعتبار نہیں
پھر کسی زلف کا ہوا سودا
بے سبب دل کو انتشار نہیں
ہم پئیں خود پلائے گر ساقی
عہد یاں ایسا استوار نہیں
ان کے قول و قرار کے ہاتھوں
کون دل ہے جو بے قرار نہیں
دیکھ کر تجھ کو ہے یہ سناٹا
دل بھی پہلو میں بے قرار نہیں
مشعل داغ ساتھ جائے گی
خوف تاریکیٔ مزار نہیں
دیکھیں کیا ہو میں ہوں برہنہ پا
بے خلش کوئی نوک خار نہیں
کس کے کہنے سے ترک مے طالبؔ
خام ہے شیخ پختہ کار نہیں