غنچہ و گل کی جستجو نہ رہی
Ehsan Akhtar Ghazipuriغنچہ و گل کی جستجو نہ رہی
دل میں اب کوئی آرزو نہ رہی
کوئی ایسا بھی ہوگا دنیا میں
جس کو دنیا کی آرزو نہ رہی
کر دیا چشم مست نے مدہوش
حاجت ساغر و سبو نہ رہی
یوں میں بیٹھا ہوں مطمئن ہو کر
جیسے منزل کی جستجو نہ رہی
اب وہ لائے ہیں ساغر و مینا
مے کشی کی جب آرزو نہ رہی
حسرت دید کے سوا اخترؔ
نہ رہی کوئی آرزو نہ رہی