غم چھپاؤں کہ آشکار کروں
Zabt Ansariغم چھپاؤں کہ آشکار کروں
کون سی وضع اختیار کروں
حادثوں سے نگاہ چار کروں
غم کے لمحوں کو شاہکار کروں
اور کیا ہے جو نذر یار کروں
جی میں آتا ہے جاں نثار کروں
زندگی کو ہی جب ثبات نہیں
اور پھر کس کا اعتبار کروں
تم بھی محبوب زندگی بھی عزیز
تم کو چاہوں کہ خود سے پیار کروں
اور بھی مشغلے ہیں وحشت کے
کیوں گریباں ہی تار تار کروں
کیا قیامت سے کم ہے شام فراق
اور کس دن کا انتظار کروں
ہر سہارا ہے جب ترا محتاج
کیوں سہاروں پہ انحصار کروں
ضبطؔ جب ضبط غم کی ہے تاکید
کیوں نہ یہ جبر اختیار کروں