تختیاں سب اتار دی گئی ہیں

Tabinda Sahar Abidi

تختیاں سب اتار دی گئی ہیں

مرے گھر کا کہیں پتہ ہی نہیں

ریگ بریاں پہ چل کے آئے ہیں

پاؤں میں کوئی آبلہ ہی نہیں

زخم دل کو تلاش مرہم تھی

اور مرہم کہیں ملا ہی نہیں

ہم نے دستک تو دی بہت لیکن

پھر کوئی در کبھی کھلا ہی نہیں

زندگی سے کبھی بنی نہ مری

موت پر اختیار تھا ہی نہیں

دھوپ بھی قہر بن کے برسی اور

سائباں ریت سے بنا ہی نہیں