آنکھوں آنکھوں میں بات ہونے لگی

Yasmin Husaini Zaidi Nikhat

آنکھوں آنکھوں میں بات ہونے لگی

خالی نیندوں سے رات ہونے لگی

اس کی نظروں میں نشہ تھا ایسا

بر طرف کائنات ہونے لگی

ہر طرف ذہن و دل کے گوشے میں

ہاں اور نہ کی بساط ہونے لگی

جب کبھی مل گئے وہ قسمت سے

پھر زمانے کی بات ہونے گلی

اور بچھڑے تو کچھ طلب ایسی

ریزہ ریزہ یہ ذات ہونے لگی

نہ کبھی حال دل کہا اب تو

زندگانی کی رات ہونے لگی