دوستوں سے کوئی گلہ ہی نہیں
Deedar Bastawiدوستوں سے کوئی گلہ ہی نہیں
اب مرے پاس کچھ بچا ہی نہیں
سب کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ ہے
ایسا لگتا ہے کچھ ہوا ہی نہیں
کل تو پانے کو تھا بہت لیکن
آج کھونے کو کچھ بچا ہی نہیں
ولدیت پوچھتا ہے وہ سب کی
جس کے ماں باپ کا پتہ ہی نہیں
لاکھ چاہا یزید نے لیکن
ایک سر تھا کہ جو جھکا ہی نہیں
یوں لگا ہے مجھے مٹانے پر
جیسے میرا کوئی خدا ہی نہیں
ورنہ دیدارؔ کیا نہیں ہوتا
کوئی تجھ سا تجھے ملا ہی نہیں