دل اگر درد آشنا نہ ہوا

Zabt Sitapuri

دل اگر درد آشنا نہ ہوا

اس کا ہونا ہی کیا ہوا نہ ہوا

واقف درد لا دوا نہ ہوا

خار رہ کوئی زیر پا نہ ہوا

مرگ عاشق بھی ناروا ٹھہری

یعنی مر کر بھی حق ادا نہ ہوا

شب ہجراں بھی اک قیامت ہے

کون فتنہ تھا جو بپا نہ ہوا

اس کے وعدوں پہ کر رہا ہوں یقیں

جس کا وعدہ کبھی وفا نہ ہوا

خوبیاں ہیں یہی محبت کی

کون ہے ظلم جو روا نہ ہوا

راہ الفت میں ہوں میں گرم سفر

کیا ہے گر کوئی دوسرا نہ ہوا

شعر گوئی سے ضبطؔ کیا حاصل

کوئی مداح جب ترا نہ ہوا