جاں رہے نوچتے حیات کے دکھ
Zafar Rababجاں رہے نوچتے حیات کے دکھ
ذات کے اور کائنات کے دکھ
کچھ بگاڑا نہ وقت نے ان کا
ہیں جواں اب بھی میرے ساتھ کے دکھ
روزمرہ کا بن گئے معمول
روزمرہ معاملات کے دکھ
فتح نے بھی شکست و ریخت ہی دی
جیت سے منسلک تھے مات کے دکھ
رہ گیا اب جنوں ہی کم آمیز
عشق میں تو ہیں بات بات کے دکھ
ہم غریبوں کے روز و شب نہ پوچھ
دن میں بھی جاگتے ہیں رات کے دکھ
ٹوٹنے میں ہی عافیت تھی ربابؔ
جھیلتا کون احتیاط کے دکھ