عالم اس بت پہ مبتلا ہی رہا

Lala Tika Ram

عالم اس بت پہ مبتلا ہی رہا

ان میں فدوی بھی اک فدا ہی رہا

اٹھ گئی دوستی زمانے سے

آشنائی نہ آشنا ہی رہا

نہ سنی تو نے ایک بات کبھو

ہم کو اس بات کا گلا ہی رہا

تم خفا ہی رہے تسلیؔ سے

اور وہ تم پہ نت فدا ہی رہا