تیری تصویر میرے پاس نہیں
Vikas Naseebتیری تصویر میرے پاس نہیں
اور کبھی ہونے کی بھی آس نہیں
تیری محفل میں جا کے جام پیوں
میری تقدیر اتنی خاص نہیں
میرے دل کے لہو کو پیتا ہے
کون کہتا ہے خط کو پیاس نہیں
داغ کو وہ چھپائے کیسے بھلا
چاند کے جسم پر لباس نہیں
دوڑ کر اس کو میں پکڑ لیتا
موت بھی میرے آس پاس نہیں