مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہا
Laiq Aajizمجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہا
پہلے جو اضطراب تھا نہ رہا
کفر ہی دین بن گیا میرا
کفر میں جو حجاب تھا نہ رہا
لذت صبح و شام بھول گئے
دل جو بھن کر کباب تھا نہ رہا
بے حیائی کی اوڑھ لی چادر
پہلے وہ آب آب تھا نہ رہا
اس نے اب ساتھ میرا چھوڑ دیا
عشق میں کامیاب تھا نہ رہا
روز و شب چین سے گزرتے ہیں
وقت میں پیچ و تاب تھا نہ رہا
ہو گئے اس کے در کے پہرے دار
میرا جینا عذاب تھا نہ رہا
شام ہوتے ہی بجھ گیا عاجزؔ
ایک مفلس کا خواب تھا نہ رہا