جب ہوا وعدہ اور وفا نہ ہوا
محمود رامپوریجب ہوا وعدہ اور وفا نہ ہوا
پھر برابر ہے وہ ہوا نہ ہوا
کس سے ہوگی جو کی وفا میں نے
کس کا ہوگا وہ جب مرا نہ ہوا
تم سلامت رہو زمانے میں
میری کیا میں ہوا ہوا نہ ہوا
غیر کے بدلے چھوڑتے ہو مجھے
وہ اگر خوگر جفا نہ ہوا
جان دینی قبول کی ہم نے
دل لگانے کا جو صلہ نہ ہوا
جب کہا اس نے آج کیوں چپ ہو
پھر شکایت کا حوصلہ نہ ہوا
جس کے محمودؔ وہ ہوئے دشمن
اس کا پھر کوئی آشنا نہ ہوا