زیست کیا ہے حماقتوں کے سوا

Rabia Fakhri

زیست کیا ہے حماقتوں کے سوا

چند ظالم صداقتوں کے سوا

ہم نے دانشوروں سے کیا سیکھا

الجھی الجھی عبارتوں کے سوا

فن کو ورثے میں کیا دیا ہم نے

خوب صورت علامتوں کے سوا

ہم نے اس زندگی سے کیا پایا

چند ذہنی رفاقتوں کے سوا

ان بڑی طاقتوں کے پاس ہے کیا

چھوٹی چھوٹی رقابتوں کے سوا

آستینوں میں دوستوں کی ہے کیا

پس پردہ عداوتوں کے سوا

کیا ہے تہذیب مغربی کا نشاں

اونچی اونچی عمارتوں کے سوا

یہ سیاست کی گرمئ رفتار

کیا ہے مہمل بجھارتوں کے سوا

کیا لیا ہم نے اپنے ماضی سے

نیم مردہ روایتوں کے سوا

اپنی منزل نہیں کوئی شاید

جان لیوا مسافتوں کے سوا

اپنا سرمایۂ حیات ہے کیا

رنگ در رنگ ساعتوں کے سوا