بے سبب عشق کب اداس رہا
Ehsas Muradabadiبے سبب عشق کب اداس رہا
وہ تمہارا ادا شناس رہا
زندگی بھر خودی کا پاس رہا
عشق کب محو التماس رہا
ہر فسانہ جو کہہ چکی دنیا
میرے غم کا ہی اقتباس رہا
جامہ زیبی بقدر ذوق رہی
عشق ہر شخص کا لباس رہا
تم سے جب قربتیں میسر تھیں
دل تو اس وقت بھی اداس رہا
غم کا پیمانہ خود بتا دے گا
کون کتنا تمہارے پاس رہا
ان کو مجھ سے ہزار دوری تھی
میں تو احساسؔ ان کے پاس رہا