تو جو مل جائے تو ٹھکرا دوں یہ دنیا کیا ہے
Ghamgeen Qureshiتو جو مل جائے تو ٹھکرا دوں یہ دنیا کیا ہے
ماسوا تیرے مرے دل کی تمنا کیا ہے
چند ٹوٹے ہوئے شیشوں کے سوا اے ساقی
اور مے خانۂ ہستی میں ہمارا کیا ہے
شوق سے جاؤ مگر وقت غنیمت سمجھو
پھر ملیں یا نہ ملیں دم کا بھروسا کیا ہے
دن نکل آیا تری یاد میں تھمتے ہی نہیں
آج اشکوں کا خدا جانے ارادہ کیا ہے
جب کہ آئین مشیت کا بدلتا ہی نہیں
پھر شکایات سے غمگینؔ نتیجہ کیا ہے