تیرے غم کے شکار ہیں ہم لوگ

Ghamgeen Qureshi

تیرے غم کے شکار ہیں ہم لوگ

پھر بھی تجھ پر نثار ہیں ہم لوگ

ہم سے پوچھو مآل لالہ و گل

کشتگان بہار ہیں ہم لوگ

جس کو سن کر فلک لرز اٹھے

وہ فغاں وہ پکار ہیں ہم لوگ

کل نسیم سحر کا جھونکا تھے

آج گرد و غبار ہیں ہم لوگ

زندگی کو خبر نہیں لیکن

زندگی کا وقار ہیں ہم لوگ

ہم سے بھی بے رخی ارے توبہ

آپ کے رازدار ہیں ہم لوگ

جانے کیا راز ہے یہ اے غمگینؔ

جانے کیوں بے قرار ہیں ہم لوگ