جو گزرے جان سے تو پایۂ تکمیل تک پہنچے
Zaheer Abbas Saerجو گزرے جان سے تو پایۂ تکمیل تک پہنچے
نہیں ممکن کہ کوئی زیست کی تفصیل تک پہنچے
رہے ابجد کے چکر ہی میں جو تھے فکر سے عاری
ہوئے فاضل وہی جو ذوق کی تکمیل تک پہنچے
رہے برتر جہاں میں دین کے جب تک رہے شیدا
ہوئے جب دین سے غافل تو ہم تذلیل تک پہنچے
پہنچتا ہے دلائل سے تو انساں بد نتیجے پر
ذرا سی بات تھی کیوں اس کی تم تاویل تک پہنچے
تو اپنی زندگی میں خود کو پہنچا ایسی خوبی تک
زمانہ ہو ترا جویا تری تمثیل تک پہنچے
رسائی جن کی تھی سرکار شرق و غرب کے در تک
وہ شمع دین کو لے کر ہزاروں میل تک پہنچے
بہت سے نوجواں گھوم آئے لندن اور پیرس تک
کوئی مرد جری اوصاف اسماعیل تک پہنچے
زمین شعر کی آرائشوں ہی تک نہ رکھ مطلب
تخیل ہے وہی جو حلقۂ جبریل تک پہنچے
قوافی چند دام فکر تک پہنچے تھے اے سائرؔ
یہ الفاظ حسیں اشعار کی تشکیل تک پہنچے