ڈھل گئی رات دن نکل آیا

Ghamgeen Qureshi

ڈھل گئی رات دن نکل آیا

غم نیا پیرہن بدل آیا

اس سے پہلے کہ کچھ کہے ساقی

میکدے سے میں خود ہی ٹل آیا

وہ مسائل خدا پہ چھوڑ دئے

کچھ سمجھ میں نہ جن کا حل آیا

جس میں ہو میری آرزو تجھ کو

کب مری عمر میں وہ پل آیا

آج بھی کم نہ تھا مگر غمگینؔ

انگنت زخم لے کے کل آیا