حسرتیں بیتاب دل ناشاد ہے
Ghamgeen Qureshiحسرتیں بیتاب دل ناشاد ہے
ہر تمنا مائل فریاد ہے
زندگی سر تا بہ پا برباد ہے
مختصر سی عشق کی روداد ہے
کوئے جاناں کی فضائیں کیا کہوں
ہر طرف خلد بریں آباد ہے
آپ کے ظلم و ستم کے ساتھ ساتھ
آپ کا حسن کرم بھی یاد ہے
ہوشیار اے طائران گلستاں
باغباں کے بھیس میں صیاد ہے
ہم نشیں ہر کج سماعت کے لئے
زمزمہ بھی صورت فریاد ہے
میکدہ غمگینؔ جب تک ہے جواں
میرا دل ہر فکر سے آزاد ہے