کوئی بھی دل میں نہیں اب آرزو
Zaheer Abbas Saerکوئی بھی دل میں نہیں اب آرزو
ہے خیال یار میرے روبرو
وہ بنے عنواں کتاب زیست کا
اور کیا ہو اس کی خاطر جستجو
میری آنکھوں میں یہ کس کا عکس ہے
کر رہا ہے کون مجھ سے گفتگو
دیکھ کر جس کو بہاریں جھک گئیں
اس کی خوشبو ہے چمن میں چار سو
بات کوئی تو بنے خنجر اٹھا
گر تجھے مقصود ہے میرا لہو
بارگاہ عشق سے آئی ندا
ہے در جاناں پہ مرنا آبرو
منتخب جس کو مرے دل نے کیا
اس سے بڑھ کر کون ہوگا خوبرو
پی رہا ہوں میں نگاہ یار سے
ہیچ ہیں میرے لئے جام و سبو
خوگر درد محبت میں ہی تھا
کس لئے کرتا میں زخم دل رفو
اضطراب ہجر کا عالم نہ پوچھ
کر رہا ہوں اپنے اشکوں سے وضو
میرے دل میں کاش سائرؔ جھانک کر
دیکھ لیتے اپنے احباب و عدو