وہ عشق کی مخصوص ادا کو نہیں سمجھا

Zaheer Abbas Saer

وہ عشق کی مخصوص ادا کو نہیں سمجھا

نادان ابھی خوئے وفا کو نہیں سمجھا

تقدیر سے بیزار ہے تدبیر سے نالاں

افسوس ہے فرعون دعا کو نہیں سمجھا

وہ عشق کی منزل کو کبھی پا نہیں سکتا

جو شخص کہ انداز جفا کو نہیں سمجھا

کرتا نہ کبھی چاک گریبان کو مجنوں

کم فہم تھا وہ صبر و رضا کو نہیں سمجھا

کیا جانے وہ ہے کون سے اوصاف کا مالک

جو شخص کبھی جود و سخا کو نہیں سمجھا

محبوب تھا کل آج حقارت کے ہے در پے

کیا سمجھے گا جو اپنی خطا کو نہیں سمجھا

اصرار تجلی کا جو کرتا ہے مسلسل

وہ مصلحت جلوہ نما کو نہیں سمجھا

جھکتا ہے جو ظالم کے کسی ظلم کے آگے

کیوں صاف نہ کہہ دوں وہ خدا کو نہیں سمجھا

میں اس کے لئے رکھتا ہوں اخلاص و محبت

جو شخص ابھی صدق و صفا کو نہیں سمجھا

گرتا نہ کبھی ظلمت و ذلت کے گڑھے میں

صد حیف کہ وہ دار فنا کو نہیں سمجھا

اس زیست کے مقصد کو جو سمجھا نہیں سائرؔ

سچ جانئے وہ راز بقا کو نہیں سمجھا