یادوں کے گل دل کے تو گلدان میں رکھ
Zaheer Abbas Saerیادوں کے گل دل کے تو گلدان میں رکھ
آج بھی ان کی صورت اپنے دھیان میں رکھ
شہر جفا میں اب اس نے بسرام کیا
خط اس کے اب سارے آتش دان میں رکھ
دنیا کو سوغات خوشی کی بانٹ سدا
غم پوشیدہ اپنے قلب و جان میں رکھ
جانے دشمن کس دم سامنے آ جائے
غافل مت رہ کوئی تیر کمان میں رکھ
یہ تیرے اسلاف کا باقی ورثہ ہے
اس ٹوٹی تلوار کو بھی سامان میں رکھ
جس سے دل آزاری ہو انسانوں کی
ایسا کوئی ستم نہ اپنی شان میں رکھ
دکھیاروں کے درد کا یہ بھی درماں ہے
غم خواروں کے چہروں کو مسکان میں رکھ
ہو کے دل برداشتہ رشتے توڑ نہ سب
کچھ تو جذبے دل کی بھی دوکان میں رکھ
جانے سائرؔ کب تقدیر بدل جائے
اپنے ہر محسن کو تو پہچان میں رکھ