فلک پر چاند جلتا ہے ہم اس کے ساتھ جلتے ہیں
Vibha Jain 'Khwaab'فلک پر چاند جلتا ہے ہم اس کے ساتھ جلتے ہیں
کسی کی یاد میں ہم دونوں ساری رات جلتے ہیں
وگرنہ خامشی میں گھٹ کے ہم چپ ذات جلتے ہیں
ہمیں پھر یاد آتے ہیں تمہاری آنکھ کے سورج
پھر ایسی آگ لگتی ہے سر برسات جلتے ہیں
چھوا تھا اک دفعہ تم نے ہمیں باتوں ہی باتوں میں
ہمیں چھوتا ہے اب کوئی تو اس کے ہاتھ جلتے ہیں
ہماری ہی نظر شاید لگی ہے عشق کو اپنے
ہم اپنی خوش نصیبی سے بھی بعض اوقات جلتے ہیں