کیا پوچھ رہے ہو دل بیمار کی باتیں
Ghamgeen Qureshiکیا پوچھ رہے ہو دل بیمار کی باتیں
کمبخت سمجھتا ہی نہیں پیار کی باتیں
صیاد نے سن لی تو بڑھا دے گا ستم اور
چھیڑو نہ قفس میں گل و گلزار کی باتیں
آنکھوں سے رواں ہو گیا اشکوں کا سمندر
یاد آئیں جو بچھڑے ہوئے غم خوار کی باتیں
ہر ڈوبنے والے کے بڑھاتے ہیں مراتب
طوفان کے قصے ہوں کہ منجدھار کی باتیں
غمگینؔ محبت کی حقیقت ہو وہاں کیا
عنوان ہوں جس بزم کے ہتھیار کی باتیں