مجھ پہ تہمت لگا رہے ہیں لوگ
Zaheer Abbas Saerمجھ پہ تہمت لگا رہے ہیں لوگ
جانے کیوں دل دکھا رہے ہیں لوگ
غم زدہ دیکھ کر مری صورت
اک فسانہ بنا رہے ہیں لوگ
کیسے پہنچوں میں اپنی منزل تک
راستے سے ہٹا رہے ہیں لوگ
کس نے مجھ کو بنایا دیوانہ
یہ جو پتھر اٹھا رہے ہیں لوگ
یہ جو سرگوشیاں ہیں کانوں میں
بات کوئی چھپا رہے ہیں لوگ
جس طرح میں کوئی تماشہ ہوں
اس طرح مسکرا رہے ہیں لوگ
کچھ بھی سائرؔ سمجھ نہیں آتا
جانے کیا کیا سنا رہے ہیں لوگ