تھا فخر جس پہ مجھ کو مری ذات کی طرح

Zaheer Abbas Saer

تھا فخر جس پہ مجھ کو مری ذات کی طرح

بدلا ہے وہ بھی صورت حالات کی طرح

فکر معاش ذہن پہ جب سے محیط ہے

ہے دن کی روشنی بھی مجھے رات کی طرح

امید وصل کا ہوا جو جام چور چور

برسے ہیں اشک آنکھ سے برسات کی طرح

اب تک ہے یاد آپ کا انداز گفتگو

مجھ کو سرور و کیف کے نغمات کی طرح

تب زندگی کا لطف ہے یا رب جہان میں

ان کی نظر ہو عین عنایات کی طرح

غش کھا کے آخرش وہ گرا دشمن خلوص

میرا جنازہ دیکھ کے بارات کی طرح

گزری ہے اپنی زندگی تیرے فراق میں

بسمل کے کرب داشتہ لمحات کی طرح

یہ کیا ہوا کہ دل پہ گزرنے لگی گراں

اب تو خوشی کی بات بھی صدمات کی طرح

سائرؔ یہ کیا ہوا ہے زمانے کی چال کو

ملتا ہے اب خلوص بھی سوغات کی طرح