دنیا کی مسرت اپنا لے ضد چھوڑ دے محو خواب نہ ہو

Ghamgeen Qureshi

دنیا کی مسرت اپنا لے ضد چھوڑ دے محو خواب نہ ہو

میں تیرے لئے بیتاب سہی تو میرے لئے بیتاب نہ ہو

اس پیاس کی شدت نے مجھ کو میخانے میں عظمت بخشی ہے

اللہ کرے یہ روح مری تشنہ ہی رہے سیراب نہ ہو

دیدار سے جب محروم رہا تب مجھ کو یہ محسوس ہوا

پھر دل سے پرستش کون کرے گر حسن ترا نایاب نہ ہو

ہے سب سے اونچا نام ترا قسمت کا بدلنا کام تیرا

تو جس پہ عنایت فرمائے وہ ذرہ کیوں مہتاب نہ ہو

ہنس کر نہ سہی آنسو پی کر یہ عمر تو کٹ ہی جائے گی

پر تجھ کو لوگ کہیں گے کیا غمگینؔ اگر شاداب نہ ہو