دل کی دنیا میں تری یاد کے منظر جاگے

Zaheer Abbas Saer

دل کی دنیا میں تری یاد کے منظر جاگے

آنکھ سے اشک گرے غم کے سمندر جاگے

قافلہ لٹنے کا افسوس نہیں دکھ یہ ہے

راہزن جا چکے جس وقت تو رہبر جاگے

دل کی ظلمت کو مٹایا ہی نہیں جا سکتا

جب تلک شہر تمنا میں نہ محشر جاگے

ہم سے دیوانوں نے سر پیش کیے ہیں ہنس کے

جب بھی مقتل میں کبھی ظلم کے خنجر جاگے

انقلاب ایک نیا برپا جہاں میں ہوگا

خواب غفلت سے کبھی جب بھی سخنور جاگے

ساری تدبیریں یہاں ہو گئیں سائرؔ بے سود

ہم گلہ کس سے کریں گر نہ مقدر جاگے