ضبط کا حوصلہ باقی نہ شکیبائی ہے
Zaheer Abbas Saerضبط کا حوصلہ باقی نہ شکیبائی ہے
تری چاہت مجھے کس موڑ پہ لے آئی ہے
بے سبب بھی تو ہوئے ہم نہ اسیر گیسو
دل نے بہکایا ہے یا لغزش بینائی ہے
دل کی دنیا میں ہوئی پھر کوئی ہلچل پیدا
اس قدر راہ وفا آج جو گہنائی ہے
کوئی بھی تو نہ شب تار میں کام آیا مرے
کہنے کو چاند ستاروں سے شناسائی ہے
سانس لینے پہ ہے پابندی دعا جینے کی
اے مسیحا یہ بھلا کیسی مسیحائی ہے
اپنی ہی ذات میں اک حشر بپا رہتا ہے
دل تماشا ہے مری آنکھ تماشائی ہے
تری جانب ہی سدا رکھتی ہے مائل مجھ کو
کوئی ایسی ترے اطوار میں گہرائی ہے
ان کے کوچے سے گریزاں تو نہیں ہوں سائرؔ
روز کا ملنا بھی تو باعث رسوائی ہے