Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کبھی روزنوں سے پکارنا کبھی در کے چاک سے دیکھناسر بزم اس کا کبھی مجھے بڑے انہماک سے دیکھناYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  2. گردش مقدر کا سلسلہ جو چل جائےدوسرا عتاب آئے اک بلا جو ٹل جائےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  3. مرے چاروں طرف ایک آہنی دیوار کیوں ہےاگر سچا ہوں میں سچ کا مقدر ہار کیوں ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  4. مسافروں کے یہ وہم و گماں میں تھا ہی نہیںکہ راہبر تو کوئی کارواں میں تھا ہی نہیںYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  5. ہر ایک گام پہ اک بت بنانا چاہا ہےجسے بھی چاہا بہت کافرانہ چاہا ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  6. میرے چاروں طرفدائرہ دائرہYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  7. نیند پلکوں کے سائباں میں نہیںطائر خواب کر گیا پروازYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  8. وطن کی دھرتی سے دورجب وطن کے مارےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  9. ہجوم رنج و المکئی پیکروں میں ڈھل کر چہار جانب پہ چھا رہا ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  10. ہر دن میں وعدہ کرتا ہوںشام سے پہلے گھر آؤں گاYaqoob Tasawwur (b. 1945)
  11. اس سے پہچان ہو گئی ہوگیراہ آسان ہو گئی ہوگیHabeeb Kaifi (b. 1945)
  12. پہلے چاہت کو تیز کر لے گاپھر وہ مجھ سے گریز کر لے گاHabeeb Kaifi (b. 1945)
  13. جادو ٹونا جانتا ہےغائب ہونا جانتا ہےHabeeb Kaifi (b. 1945)
  14. جب بھی اس کی خواہش رکھنااچھا ہے کچھ دانش رکھناHabeeb Kaifi (b. 1945)
  15. جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہےوہ خوش مزاج ہے لیکن خفا بھی ہوتا ہےHabeeb Kaifi (b. 1945)
  16. کانٹے چننا پھول بچھانارستہ یوں آسان بناناHabeeb Kaifi (b. 1945)
  17. کیا ہوگا جب مر جائیں گےاپنے اپنے گھر جائیں گےHabeeb Kaifi (b. 1945)
  18. کئی دنوں سے اسے مجھ سے کوئی کام نہیںیہی سبب ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہیںHabeeb Kaifi (b. 1945)
  19. گر کبھی فرصت ملے تودیکھ لینا گل کھلے توHabeeb Kaifi (b. 1945)
  20. میں نے ارادہ جب بھی کیا ہے اڑان کااس کو خیال آیا ہے تیر و کمان کاHabeeb Kaifi (b. 1945)
  21. یہاں سے چلیں گے وہاں سے چلیں گےکہو گے تو سارے جہاں سے چلیں گےHabeeb Kaifi (b. 1945)
  22. بیتے دنوں کی تو اگر تحریر لکھاپنے قلم سے وقت کی تقدیر لکھZafar Hashmi (b. 1945)
  23. پھول کا پیکر زمیںاور کبھی پتھر زمیںZafar Hashmi (b. 1945)
  24. خشک دریا میں اضطراب آئےسارے ساحل ہی زیر آب آئےZafar Hashmi (b. 1945)
  25. رہے دھوپ میں خشک شجر کی طرحپئے درد بھی راہ گزر کی طرحZafar Hashmi (b. 1945)
  26. سہمی ہوئی گلشن میں ہر اک آج کلی ہےشعلوں کی کبھی پیاس بھی شبنم سے بجھی ہےZafar Hashmi (b. 1945)
  27. گمان میں ہے یقین جیسےاگل دے سونا زمین جیسےZafar Hashmi (b. 1945)
  28. گھنے جنگلوں میں کرن رہ گئیہمارے بدن میں تھکن رہ گئیZafar Hashmi (b. 1945)
  29. میں بھی ہوں تنگ کب سے تم بھی ہو تنگ کب سےحالات کی سپہ سے جاری ہے جنگ کب سےZafar Hashmi (b. 1945)
  30. واقعہ میرے نہ تن اور سر کا ہےسامنا ہر روح کو خنجر کا ہےZafar Hashmi (b. 1945)
  31. وہ شب شکن سے نیا آفتاب نکلا ہےلہو کی شاخ پہ تنہا گلاب نکلا ہےZafar Hashmi (b. 1945)
  32. ہر رنج قبول کر رہا ہوںزخموں کو میں پھول کر رہا ہوںZafar Hashmi (b. 1945)
  33. اٹھے نہ دھواں ایسی فضا کس نے ہمیں دیاس طرح سلگنے کی سزا کس نے ہمیں دیM. K. Asar (b. 1945)
  34. پہلی جیسی ہی کشش آج بھی ہےکل جو تھی ان کی روش آج بھی ہےM. K. Asar (b. 1945)
  35. حصار تنگ زمیں تنگ آسمان بھی تنگہمارے سر پہ ہوا گھر کا سائبان بھی تنگM. K. Asar (b. 1945)
  36. صدا کا صوت کا اقرار ہونا باقی ہےابھی تو درد کا اظہار ہونا باقی ہےM. K. Asar (b. 1945)
  37. فنا کی سمت چلا ہوں بقا میں کیا جانوںیہ کیسی بات ہے اس کی رضا میں کیا جانوںM. K. Asar (b. 1945)
  38. مرنے کی ادا اور ہے جینے کی ادا اورجو چاہوں سمجھنا بھی تو روکے ہے انا اورM. K. Asar (b. 1945)
  39. مکاں سے لپٹی سسکتی ہوئی صدا کیا ہےگلی گلی میں ہے جو ان دنوں بلا کیا ہےM. K. Asar (b. 1945)
  40. مدرسے کے عذاب نے ماراٹیچروں کے عتاب نے ماراYakta Amrohvi (b. 1945)
  41. گیہوں کیا شے ہے باجرا کیا ہےاور چاول ہے کیا چنا کیا ہےYakta Amrohvi (b. 1945)
  42. پتھر سے وصال مانگتی ہوںمیں آدمیوں سے کٹ گئی ہوںFahmida Riaz (1946–2018)
  43. جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہےیا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہےFahmida Riaz (1946–2018)
  44. چار سو ہے بڑی وحشت کا سماںکسی آسیب کا سایہ ہے یہاںFahmida Riaz (1946–2018)
  45. کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میںوہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میںFahmida Riaz (1946–2018)
  46. مدت سے یہ عالم ہے دل کا ہنستا بھی نہیں روتا بھی نہیںماضی بھی کبھی دل میں نہ چبھا آئندہ کا سوچا بھی نہیںFahmida Riaz (1946–2018)
  47. یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکاتو نخ بہ نخ کہیں پیوست ریشۂ دل تھاFahmida Riaz (1946–2018)
  48. یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایاجو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایاFahmida Riaz (1946–2018)
  49. اب سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دوFahmida Riaz (1946–2018)
  50. اس کو اک دن تو جانا تھامجھ سے کیا رشتہ کیا ناتاFahmida Riaz (1946–2018)