سہمی ہوئی گلشن میں ہر اک آج کلی ہے
Zafar Hashmi (b. 1945)سہمی ہوئی گلشن میں ہر اک آج کلی ہے
شعلوں کی کبھی پیاس بھی شبنم سے بجھی ہے
جو آگ دہکتی ہے سمندر کے جگر میں
ساحل کے لبوں پر بھی وہی تشنہ لبی ہے
ظلمت کے حصاروں میں رہی رات بھی لیکن
اک شمع بجھی جب وہیں اک شمع جلی ہے
تلوار بھی گردن پہ ہو جینا بھی ضروری
اس عہد کا شاید وہ کوئی ایک ولی ہے
اندر سے شکستہ رہوں باہر سے شگفتہ
یہ راہ علی ہے کہ رخ بو لہبی ہے
غرقاب ہے سورج ہیں نگاہوں میں اجالے
بخشش یہی سوغات زمانے سے ملی ہے