واقعہ میرے نہ تن اور سر کا ہے

Zafar Hashmi (b. 1945)

واقعہ میرے نہ تن اور سر کا ہے

سامنا ہر روح کو خنجر کا ہے

ٹوٹ جاتا صرف شیشہ بات تھی

مسئلہ تو آج ہر پتھر کا ہے

ساز پائل گیت اور ٹھنڈی ہوا

خواب آنکھوں میں یہ ہر پیکر کا ہے

گھر میں رہ کر قلب پر بار الم

ذہن پر اک بوجھ بھی دفتر کا ہے

دور تک اڑتے ہوئے یہ بال و پر

راستہ شاید کسی شہ پر کا ہے

آگے آگے ہے اگر تنہا ظفرؔ

پیچھے پیچھے شور بھی لشکر کا ہے